Accessibility Page Navigation
Style sheets must be enabled to view this page as it was intended.
The Royal College of Psychiatrists Improving the lives of people with mental illness

 

بائی پولر افیکٹو ڈس آرڈر

Bipolar Affective Disorder

 

 

 

 

 بائیپو لر افیکٹو  ڈس آرڈرکیا ہے؟

بائی پولر ڈس آرڈر  کو پہلے مینک ڈپریشن  (manic-depression)کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جیسا کہ نام بتاتا ہے، اس بیماری میں موڈ کبھی حد سے زیادہ خوش ہو جاتا ہے اور اس میں بے انتہا تیزی آ جاتی ہے، اور کبھی اس میں بے انتہا اداسی ہو جاتی ہے۔ اس بیماری  میں مختلف اوقات میں مختلف کیفیات پائی جاتی ہیں؛

1۔ اداسی  (ڈپریشن) (Depression)

بہت زیادہ غم زدہ اور مایوس محسوس کرنا۔

۲۔ بےانتہا تیزی  (مینیا)(Mania)

حد سے زیادہ خوشی اور جوش محسوس کرنا۔

۳۔ ملا جلا موڈ (مکسڈ)(Mixed)

مثلاً اداس موڈ کے ساتھ بہت زیادہ کام کرنے لگنا۔

عام طور سے اس بیماری کے مریضوں کو  ڈپریشن اور مینیا دونوں ہوتے ہیں لیکن بعض مریضوں کو صرف مینیا بار بار ہوتا ہے۔

 

بائی پولر ڈس آرڈر کتنا عام ہے؟

بائی پولر ڈس آرڈر تقریباً ایک فیصد لوگوں  کو زندگی کے کسی حصے میں ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری بلوغت کے بعد کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتی ہے لیکن چالیس سال کی عمر کے بعد یہ بیماری شاذونادر ہی شروع ہوتی ہے۔ مرد اور عورت دونوں میں اس کی شرح یکساں ہے۔

 

بائی پولر ڈس آرڈر کی وجوہات۔

ہمیں وثوق سے تو نہیں معلوم  مگر:

● تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ خاندانی مرض ہے۔ اس کا وراثت سے زیادہ اور ماحول سے کم تعلق ہے۔

● ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دماغ میں جو نظام  ہمارے موڈ کو صحیح رکھتا  ہے، بائی پولر ڈس آرڈر میں اس نظام میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس بیماری کی علامات دواؤں سے صحیح ہو جاتی ہیں۔

● یہ بیماری کبھی کبھی مشکل حالات ، ذہنی  دباؤ یا جسمانی بیماری کے بعد بھی شروع ہو جاتی ہے۔

 

اس بیماری میں کیسا  محسوس ہوتا ہے؟

 ڈپریشن (Depression)

ہر انسان کبھی نہ کبھی اداس محسوس کرتا ہے، لیکن جب یہ اداسی بڑھ کر ڈپریشن کی بیماری کی حدود میں داخل ہو جائے تو انسان کے لیے روز مر ہ کے کام کاج کرنا بھی مشکل ہونے لگتا ہے۔ جن لوگوں کو ڈپریشن ہو جائے ان میں عموماً  اس طرح کی علامات نظر آنے لگتی ہیں:

 

● ہر وقت اداس یا نا خوش رہنا۔

● جن کاموں میں پہلے مزا آتا تھا ، دل لگتا تھا، اب ان میں دلچسپی نہ ہونا۔ کسی بات سے خوشی نہ ہونا۔

● ہر وقت تھکا تھکا محسوس کرنا، کمزوری محسوس کرنا۔

● چیزوں اور باتوں پہ توجہ نہ دے پانا۔

● خود اعتمادی کھو دینا،اپنے آپ کو بے کار اور ناکارہ سمجھنا

● ماضی کی ہر بری بات کا خود کو زمہ دار  ٹھہرانا۔

●  خودکشی کے خیالات آنے لگنا یا خود کشی کی کوشش کرنا۔

● نیند آنے میں مشکل ہونا یا جلدی آنکھ کھل جانا۔

● بھوک اور وزن کم ہونا (کچھ لوگوں میں بھوک اور وزن میں زیادتی ہو جاتی ہے)

 

مینیا  (Mania)

کبھی کبھی ہم سب بہت زیادہ خوش محسوس کرتے ہیں اور طاقت، توانائی اور نئے نئے خیالات اور منصوبوں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ عام طور سے یہ کوئی بیماری نہیں ہوتی لیکن اگر یہ کیفیت ایک حد سے بڑھ جائے اور مستقل رہنے لگے تو یہ مینیا کی بیماری ہو سکتی ہے۔ اگر کسی کو مینیا ہو جائے تو عام طور سے اس میں اس طرح کی علامات نظر آتی ہیں:

 

● بغیر کسی وجہ کے حد سے زیادہ بے انتہا خوش اور پرجوش رہنا۔

● بعض دفعہ زیادہ چڑچڑا ہو جانا ۔

● اپنے آپ کو  کوئی بہت بڑی ہستی یا شخصیت سمجھنے لگنا۔

● اپنے آپ کو بے انتہا طاقت اور توانائی سے بھرا ہوا محسوس کرنا۔ ۔

● بہت زیادہ تیزی آ جانا، بہت تیز تیز حرکت کرنا۔

● بہت تیزی سے، اونچی آواز میں، اور بہت زیادہ بولنا۔ اگر آپ کے موڈ میں بہت زیادہ تیزی آ گئ  ہے تو جو آپ بولتے ہیں وہ دوسروں کو  سمجھ میں نہیں  آئے گا۔

● نیند بہت کم ہو جانا اور نہ سونے یا بہت کم سونے کے باوجود مزید سونے کی ضرورت یا تھکن محسوس نہ ہونا۔

● بہت سارے کام شروع کرنا لیکن ان کو ادھورا چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ جانا۔

 ●  بہت بڑے بڑے ایسے منصوبے بنانا جن کے پورا ہونے کا کوئی امکان نہ ہو۔

● پیسے معمول کے مقابلے میں بہت زیادہ خرچ کرنے لگنا۔

 

اگر کسی کو پہلی دفعہ مینیا ہوا ہو  تو اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے یا اس  کا رویہ نارمل نہیں ہے۔جب کہ  دوستوں یا گھر والوں کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ مریض کا رویہ بدل گیا ہے اور کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ مریض کو ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ اس نے زندگی میں اس سے بہتر کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے اسے بہت برا لگتا ہے جب کوئی اسے بتاتا ہے کہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ لیکن جب مریض اس کیفیت سے باہر آتا ہے تو اسے اپنے کیے ہوئے کاموں اور کہی ہوئی باتوں پر بہت شرمندگی ہوتی ہے۔

 

سائیکوسس کی علامات Psychotic Symptoms

اگر مینیا یا ڈپریشن کا دورہ بہت شدید ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ مریض کو ایسے خیالات آنے لگیں یا تجربات ہونے لگیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ جو مریض مینیا میں ہو اسے ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی ہستی ہے مثلاً پیغمبر ہے اور اسے کسی عظیم مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے، یا اس کے اندر ایسی غیر معمولی صلاحیتیں ہیں جو کسی عام انسان میں نہیں ہوتیں۔ جو مریض ڈپریشن کا  شکار ہو  اسے ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ برا اور خطا کار کوئی بھی نہیں ہے۔ دونوں کیفیتوں میں بعض دفعہ مریضوں کو اکیلے میں آوازیں آتی ہیں جب کہ ان کے آس پاس کوئی بھی نہیں ہوتا یا ایسے چیزیں نظر آتی ہیں جو کسی اور کو نہیں دکھائی دیتیں۔

 

دوروں کے درمیان :

پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ جن لوگوں کو با ئیپولر کا مرض ہےوہ ڈپریشن یا مینیا  کے دورے کے ختم ہونے کے بعد مکمل صحیح حالت میں واپس آجاتے ہیں۔ کچھ مریضوں کے ساتھ تو واقعی ایسا ہوتا لیکن اب ہمیں معلوم ہے کہ بائی پولر کے بہت سے مریض ڈ پریشن یا مینیا ختم ہونے کے بعد بھی مکمل صحیح نہیں ہوتے۔ انہیں ڈپریشن کی تھوڑی بہت علامات محسوس ہوتی رہتی ہیں اور سوچنے یا فیصلہ کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے ، حالانکہ دوسرے لوگوں کو وہ بالکل صحیح لگ رہے ہوتے ہیں۔

 

بائی پولر ڈس آرڈر کا علاج کیسے ہوتا ہے؟

 

موڈ اسٹیبلائزر ادویات۔ (Mood stabilisers)(موڈ کو اعتدال میں رکھنے والی ادویات)

یہ کئی قسم کی ہیں، ان میں بہت  ساری وہ ہیں جو مرگی کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔  لیتھیئم وہ پہلی دوا تھی جو موڈ کو اعتدال میں رکھنے کے لئے دریافت ہوئی تھی۔

 

لیتھیئم ۔

50 سال سے لیتھیئم موڈ کو اعتدال میں رکھنے کے لئے استعمال ہو رہی ہے، مگر یہ کیسے کام کرتی ہےہمیں اب تک وثوق سے نہیں  معلوم ۔ یہ دونوں مینیا اور ڈپریشن کےدوروں کا علاج کرنے میں استعمال ہو سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ لیتھئیم کا جسم میں لیول بالکل صحیح ہو نا چاہیئے۔ اگر کم ہو تو یہ  کام نہیں کرے گی، بہت زیادہ ہو تو  اس سے شدید مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

 

لیتھئیم کی خون میں مقدار کا بہت زیادہ دارومدار انسان کے جسم میں پانی کی مقدار پر ہوتا ہے ۔  اگر جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو خون میں لیتھئیم کی مقدار بڑھ جائے گی اورمریض میں اس کے مضر اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں ۔ اسی لیے جو مریض لیتھیم لے رہا ہو اس کے لیے  بہت ضروری ہے کہ وہ پانی کثرت سے پیتا رہے، خاص طور سے اگر  گرمی زیادہ ہو یا انسان جسمانی مشقت زیادہ کرتا ہو ۔  چائے اور کافی کم مقدار میں لیں کیونکہ  ان سے پیشاب زیادہ ہوتا ہے اور جسم سے پانی زیادہ نکل جاتا ہے۔

 

لیتھئیم کو صحیح طور سے کام کرنے میں تین ماہ یا اس سے زیادہ لگ سکتے ہیں اس لئے مریض کا موڈ  اگر اس عرصے میںتھوڑا بہت اوپر نیچے بھی ہوتا رہے تو اسے دوا کھاتے رہنا چاہیے۔

 

 لیتھیم کے مضر اثرات:

یہ مضر اثرات لیتھئیم شروع کرنے کے بعد پہلے چند ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں۔ اسن سے مریض کو وقتی تکلیف اور پریشانی ہو سکتی ہے لیکن عام طور سے یہ  وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں یا ختم ہوجاتے ہیں۔

سب سے عام تکلیف دہ اثرات ہو سکتے ہیں:

● بہت پیاس لگنا۔

● بہت زیادہ پیشاب آنا۔

● وزن بڑھنا شروع ہو جانا۔

 

کم لوگوں میں ہونت والے مضر اثرات (جو  دوا کی مقدار کم کرنے سے بہتر ہو جاتے ہیں) :

● دھندلا نظر آنا۔

● پٹھوں میں کمزوری آنا۔

● کبھی کبھی  دست لگنا۔

● ہاتھوں کا کانپنا۔

● تھوڑی بیماری سی محسوس کرنا یا طبیعت کا نا ساز لگنا۔

 

اگر لیتھئیم کی مقدار خون میں زیادہ ہے تو آپ کو یہ بھی ہو  سکتا ہے:

● الٹی ہونا۔

●چلنے میں  ڈگمگانا یا چکر آنا۔

● بولنے میں زبان کا لڑکھڑانا۔

اگر مریض میں ان میں سے کوئی بھی علامت نظر آئے  تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

 

خون کا ٹیسٹ۔

شروع میں مریض  کو خون کا ٹیسٹ ہر کچھ ہفتے پہ کروانا پڑتا ہے تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس کے خون میں لیتھئیم کی مقدار صحیح ہے یا نہیں۔مریض کو یہ ٹیسٹ اس وقت تک کرواتے رہنے پڑتے ہیں  جب تک وہ لیتھئیم لیتا رہے، مگر پہلے کچھ ماہ بعد یہ ٹیسٹ اتنا جلدی جلدی نہیں کروانے پڑتے۔

کچھ لوگوں میں، لیتھئیم کا طویل عرصے تک استعمال گردوں پہ یا تھائرائڈ  غدود پہ اثر  انداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے گردوں اور تھائیرائڈ کا  خون کا ٹیسٹ ہر کچھ ماہ بعد ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کرواتے رہنا چاہیے۔ اگر آپ کے گردوں میں کچھ خرابی ہو تو ہو سکتا ہے کہ لیتھیم بند کر کے کوئی دوسری دوا شروع کرنی پڑے۔

 

اپنا خیال رکھنا:

● متوازن غذا کھا ئیں۔

● پانی خوب پئیں۔ یہ کرنے سے آپ یہ دھیان رکھ سکتے ہیں کہ آپ کے جسم میں نمکیات کا صحیح توازن رہے۔

● صحیح وقت پر کھانا کھائیں۔ یہ جسم میں پانی کی مقدار کو متوازن رکھے گا۔

●   چائے،کافی یا کولا کے زیادہ استعمال میں احتیاط کریں۔ اس سے آپ کو پیشاب بہت زیادہ  آتا ہے اور اس  سے جسم میں لیتھئیم کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔

 

۔  دوسرے موڈاسٹیبلائزر

 ● لیتھئیم سب سے موثرعلاج ہے، یہ مرض کے دوبارہ ہونے کے امکان  کو 30 فیصد سے 40 فیصد تک کم کرتا ہے۔

● ہو سکتا ہے کہ بائی پولر ڈس آرڈر کے اگلے حملے کو روکنے کےلیے سوڈیم ویلپروئیٹ (Sodium Valproate)بھی اتنی ہی موثر ہو لیکن اس دوا کے لیے تحقیقی ثبوت اتنا مضبوط نہیں جتنا لیتھیم کے لیے ہے۔  اس دوا کو  حاملہ عورتوں کے لئے تجویز نہیں کرنا چاہیے۔

●کاربامازپین (Carbamazepine)اس بیماری کے لیے اتنی موثر نہیں جتنی لیتھیم اور ویلپروئیٹ ہیں اور اب اتنی استعمال نہیں ہوتی  لیکن اگر کوئی  مریض پہلے سے اس دوا کو لے رہا ہو او ر اسے  فائدہ ہو تو اسے دوا کو جاری رکھنا چاہیے۔

● حالیہ تحقیق سے پتہ چلا  ہے کہ ایک نئی اینٹی سا ئیکوٹک دوا (جیسے اولینزاپین)بھی موڈ اسٹیبلائزر کے طور پر کام کر سکتی ہے۔

 

میرے لئے سب سے مناسب علاج کیا ہے؟

یہ فیصلہ آپ کو اپنے سائیکائٹرسٹ کے مشورے سے کرنا چاہیے۔

● لیتھئیم اس وقت دی جاتی ہے جب علاج طویل عرصے تک ہونا ہو۔

● کاربامازیپین اس وقت تجویز کی جاتی ہے اگر آپ کا موڈ بہت زیادہ اور بہت تیزی سے بار بار تبدیل ہوتا ہو۔

 ● بعض دفعہ ایک سے زیادہ دوا ایک ساتھ دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

● علاج  کا دارومدار اکثر اس بات پر  ہو تا ہے کہ کو ئی بھی دوا آپ کے لئے کتنی مناسب ثابت ہوتی ہے۔  کسی کو ایک دوا سے فائدہ ہوتا ہے، کسی کو دوسری دوا سے، لیکن  ان دواؤں  کا ستعمال کرنا زیادہ  بہتر ہے جن کی کارکردگی کے بارے میں زیادہ ثبوت موجود ہے۔

 

اگر کوئی مریض دوا نہ لے تو کیا ہو گا؟

کسی مریض کو جتنے زیادہ مینیا کے دورے پڑچکے ہیں اس بات کا امکان اتنا ہی زیادہ ہو جاتا ہے کہ اسے پھر مینیا کا حملہ ہو گا۔                       

بیماری کے مزید حملے ہونے کا خطرہ  عمر بڑھنے کے ساتھ کم نہیں ہوتا۔ اگر ایک مریض کافی عرصے سے ٹھیک ہو پھر بھی اس کو مزید حملے ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

 

موڈ اسٹیبلائزر  کا استعمال کب شروع کرنا چاہیے؟

موڈ اسٹیبلائزر آئندہ  ہونے والے دوروں کو روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔ پہلے دورے کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ بیماری کا دوسرا حملہ ہو گا کہ نہیں ۔ لیکن اگر بیماری کا پہلا حملہ بہت زیادہ شدید ہوا ہو تو موڈ اسٹیبلائزر شروع کرنے کے بارے میں سوچا جانا چاہیے۔

اگر کسی مریض کو  بائی پولر ڈس آرڈر کا  دوسرا حملہ ہو جائے تو اس بات کا تقریباً اسی فیصد امکان ہوتا ہے کہ اسے تیسرا حملہ بھی ہو گا۔ اس صورت میں عام طور سے موڈ اسٹیبلائزر کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

 

موڈ سٹیبیلائزر کتنے عر صے کے لئے لینی پڑے  گی؟

● بائی پولر کے مرض کے پہلے دورے کے بعد تقریباً 2 سال تک۔

اگر بیماری کے کئی حملے ہو چکے ہوں، سائیکوٹک علامات رہی ہوں، مریض شراب نوشی کرتا ہو یا نشہ آور ادویات استعمال کرتا ہو ، یا مسلسل معاشرتی دباؤ کا شکار ہو تو پانچ سال تک۔

 

باتوں کے ذریعے علاج (سائیکوتھراپی) ۔

مینیا یا  ڈپریشن کے دورے کے ٹھیک ہونے کے بعد سائیکوتھراپی بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اس میں مندرجہ ذیل باتیں شامل کرنے سے فائدہ ہوتا ہے:

● بائی پولر ڈس آرڈر  کے بارے میں معلومات۔

● اپنے موڈ کے ڈپریشن یا مینیا کی طرف جانے کی ابتدائی علامات کے بارے میں معلومات۔

● زندگی کے عام حالات کا مناسب مقابلہ کرنے کی صلاحیتیں۔

●ڈپریشن کے لیے کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی۔

 

حاملہ ہونا:

اگر بائی پولر ڈس آرڈر کی مریضہ کا مزید بچوں کا ارادہ ہو تو اسے اپنے سائیکائٹرسٹ سے اس بارے میں ضرور بات کر لیںی چاہیے  کہ مرض پر حمل کے اور  بچے کی پیدائش کے کچھ ماہ بعد بھی کس طرح سے قابو پایا جا سکے گا۔

اگر آپ حاملہ ہو جاتی ہیں، تو ڈاکٹر سے مشورہ بہتر ہےکیا آپ لیتھئیم کا استعمال جار ی رکھ سکتی ہیں۔ حالانکہ لیتھئیم حمل  کے دوران اور موڈ اسٹیبلائزر کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے لیکن بچے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات  اور مرض کے دو بارابھر آنے کے خطرات دونوں کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ حمل کے شروع کے تین ماہ سب سے زیادہ حساس ہوتے ہیں ۔ اگر آپ بچے کو اپنا دودھ پلانے کا رادہ نہیں  رکھتیں تو  حمل کے چھبیسویں ہفتے کے بعد سےلیتھئیم استعمال کرنا محفوظ ہے۔

اگر کسی مریضہ کے لیے لیتھیم استعمال کرنا ضروری ہو تو بہتر رہے گا کہ وہ بچے کو دودھ نہ پلائے۔

 

مینیا  اور ڈپریشن کے  دوروں کا علاج۔

ڈپریشن کے دورے۔

اس کیفیت میں موڈ اسٹیبلائزرکے ساتھ ساتھ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے استعمال کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی اینٹی ڈپریسنٹ ایس ایس آر آئی گروپ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے ڈپریشن کے مینیا میں بدل جانے کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے جو کہ  پرانی ٹرائی سا ئیکلک اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے زیادہ ہو تا ہے۔

اگر آپ کو حال ہی میں مینیا کا دورہ ہوا ہو یا آپ کا موڈ بہت تیزی سے بار بار مینیا یا ڈپریشن کی طرف جاتا ہو  ، تو ہو سکتا ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ لینے سے آپ مینیا میں چلے جائیں ۔ ایسی صورت میں بہتر ہو گا کہ موڈ اسٹیبلائزر  کی مقدار بڑھا لی جائے اور اینٹی ڈپریسنٹ دوا نہ لی جائے۔

اینٹی ڈپریسنٹ عموماً 2 سے 6 ہفتوں میں اثر دکھاتی ہے، مگر  نیند اوربھوک پہلے بہتر ہوجاتے ہیں۔

جب آپ بہتر محسوس کریں، تب بھی اپنے ڈاکٹر  کے مشورے سے  اینٹی ڈپریسنٹ جاری رکھیں ۔ اگر آپ انہیں جلدی روک دیتے ہیں، تو آپ کے دوبارہ ڈپریشن میں چلے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بائی پولر ڈس آرڈر میں ڈپریشن ٹھیک ہو جانے کے بعد بھی اینٹی ڈپریسنٹ کو کم از کم 8 ہفتوں تک لینا ہوتا ہے۔ اس کےبعد اینٹی ڈپریسنٹ کو  آہستہ آہستہ کم کیا جاتا ہے ۔

اس کا ثبوت ہے کہ ، اگر آپ کو بار بار ڈپریشن کے دورے  پڑھتے ہیں مگر  انیٹی ڈپریسنٹ کے استعمال سے مینک کا دورہ نہیں ہوا، تو آپ موڈ اسٹیبیلشر اور اینٹی ڈپریسنٹ دونوں کا علاج اور دورے پڑھنے سے روک سکتا ہے۔ اگر آپ کو مینک ہوا ہے تو انٹی ڈپریسنٹ کو زیادہ ؑعرصے تک لینا ٹھیک نہیں۔

 

مینیا اور مکسڈ دورے۔

اگر اینٹی ڈپریسنٹ لے رہے ہیں تو اسے روک دیں۔ اس میں عام طور سے موڈ اسٹیبلائزر یا اینٹی سا ئیکو ٹک یا دونوں ایک ساتھ دی جاتی ہیں۔ اینٹی سائیکوٹک عام طور پر شیزو فرینیا  کے لئے استعمال کی جاتی ہے لیکن یہ مینیا کی تیزی، اپنے بار ے میں بڑے بڑے خیالات ، نیند  نہ آنا اور غصہ آنا، جو مینیا میں بھی ہوتا ہےاس کو بھی کنٹرول کر سکتی ہے۔

پرانی انٹی سائیکوٹک (مثلاً ہیلو پریڈال) کے کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں جیسے جسم میں اکڑ، کانپنا، چکر آنا اور منہ  کا بد زائقہ اور خشک ہونا۔ مگر کچھ نئی ادویات (ریسپریڈون، اولنزیپائن) کے مضر اثرات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔

جب علاج شروع ہو جائے تو علامات کچھ دن میں بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، مگر پوری طرح ٹھیک ہونے میں کچھ ہفتے لگتے ہیں۔ اگر آپ ان ادویات کے استعمال کے ساتھ گاڑی چلانا چاہتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں ۔

 

موڈ میں تبدیلی کو روکنا۔ اپنی مدد آپ ۔

خود پہ نظر رکھنا:

اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ جب آپ کا موڈ ڈپریشن یا مینیا کی طرف جانا شروع ہوتا ہے تو سب سے پہلے کیا تبدیلی آتی ہے تا کہ آپ فوراً مدد لے سکیں۔ایسا کرنے سے ممکن ہو سکتا ہے کہ طبیعت پوری طرح سے خراب ہونے سے  بچا جا سکے اور ہسپتال میں داخل نہ ہونا پڑے ۔ ایک موڈ ڈائری رکھنے سےہو سکتا ہے  آپ جان سکیں کہ آپ کی زندگی میں کون سی باتیں آپ کا موڈ برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہیں اور کون سی اس کو خراب کرتی ہیں۔

معلومات:

اپنی بیماری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور یہ معلوم کر کے رکھیں کہ جب طبیعت خراب ہونا شروع ہو تو آپ کیسے جلد از جلد مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

اسٹریس ، دباؤ یا ذہنی تناؤ۔

اگر ممکن ہو تو بہت زیادہ ذہنی دباؤ والے حالت سے بچیں ، ان سے ڈپریشن یا مینیا کا دورہ شروع ہو سکتا ہے ۔ تمام ذہنی دباؤ والے حالات سے دور رہنا عام طور سے انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا اس لیے دباؤ کا بہتر مقابلہ کرنے کی تدابیر سیکھیں۔

رشتے دار اور دوست:

مینیا یا ڈپریشن کا دورہ دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ تعلقات میں بڑے مسئلے پیدا کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ٹھیک ہونے کے بعد آپ کو اپنے بعض تعلقات دوبارہ سے استوار کرنے پڑیں۔ اگر آپ کا ایک ہم راز یا بااعتماد شخص ہو  جس سے آپ بات کر سکیں اور جس پہ آپ بھروسہ کر سکیں۔ جب آپ بہتر ہوں تو اپنے قریبی لوگوں کو اپنی بیماری کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہیں یہ سمجھنے سے فائدہ ہو گا کہ اس بیماری میں کس طرح کی علامات ہوتی ہیں اور جب آپ میں اس طرح کی علامات نظر آئیں تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔

سرگرمیاں:

اپنی زندگی، کام ، اور گھر والوں ، رشتےدار وں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے میں توازن پیدا کریں۔ اگر آپ کام کا بوجھ بہت زیادہ لے لیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو مینیا کا دورہ شروع ہو جائے۔

خیال رہے کہ آپ کے پاس آرام اور سکون کا وقت ہو۔ اگر آپ بے روزگار ہیں، تو کچھ کورس وغیرہ کرنے کا سوچیں، یا کوئی فلاحی کام کریں جس کا دماغی یا نفسیاتی امراض سے کوئی تعلق نہ ہو۔

ورزش:

ہفتے میں کم از کم  تین بار تقریباً 20 منٹ تک  مناسب حد تک ورزش کرنے سے  موڈ پہ اچھا اثر پڑتا ہے۔

تفریح:

خیال رہے کہ آپ ایسے کام روزانہ کریں جو آپ کو خوشی و تفریح فراہم کریں اور جن سے آپ کو اپنی زندگی کا کوئی مقصد نظر آئے۔

دوا کا استعمال جاری رکھنا:

اگر  آپ ڈاکٹر کے دیے گئے مشورے سے قبل ہی دوائی کا استعمال روک دیں گے تو اس سے بیماری کے واپس آنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

 

گھر والوں اور دوستوں کے لئے مشورے۔

مینیا اور ڈپریشن کے دورے مریض کے ساتھ ساتھ گھر والوں اور دوست و عزیز کے لئے بھی کافی پریشان کن اور تکلیف دہ ہوتے ہیں ۔

موڈ کے تبدیلی کے دورے کو کیسے سنبھا لا جائےا:

ڈپریشن۔

جب کوئی شدید ڈپریشن میں ہو تو سمجھ نہیں آتا کہ اسے کیا کہا جائے۔مریض ہر بات کا منفی پہلو ہی دیکھتا ہے۔ یہ سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ انہیں کس بات سے بہتری محسوس ہوگی اور شاید انہیں خود بھی نہیں پتہ ہوتا۔ ان کے لیے لوگوں سے تعلق رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے ، مگر ساتھ ساتھ وہ آپ کی مدد کے بغیر بھی نہیں رہ پاتے۔ صبر اور تحمل سے کام لینے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی زندگی کو ختم کرنے کی بات کریں تو اس کو ذرا سا بھی نظر انداز نہ کریں اور فوراً کسی سائیکائٹرسٹ سے مدد طلب کریں۔

مینیا۔

مینیا کے دورے کے شروع میں مریض بہت خوش ، پر جوش اور دوستانہ نظر آئے گا  کہ "زندگی جینے کے لئے ہے خوب جیو"۔انہیں لوگوں میں توجہ کا مرکز بنے رہنا پسند ہو گا  حالانکہ اس سے ان کے موڈ میں اور تیزی آئے گی۔ بہتر ہو گا کہ آپ انہیں ان حالات سے دور رکھیں اور انہیں کہتے رہیں کہ وہ  ماہرین سے مدد لیں۔

اپنے پیاروں کا خیال رکھنا یا مدد کرنا:

آپ ان کی عملاً مدد کریں تو بہتر ہو گا ۔ اگر آپ دیکھیں کہ وہ:

● اپنے کھانے پینے پر صحیح توجہ نہیں دے رہے اور کھانا چھوڑ رہے ہیں۔

● ایسے کام یا حرکت کر رہے ہیں جس سے خود انہیں یا دوسروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تو فوراً کسی سائیکائٹرسٹ  کی مدد طلب کر لیں۔

 

 

یہ کتابچہ رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

www.rcpsych.ac.uk/urdu

اور ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی

www.aku.edu/medicalcollege/psychiatry/public_education.shtml

کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

مدیر: ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک)

نظرَثانی: ڈاکٹر راشدہ تبسم (ایم آر سی سائیک)


RCPsych logoProduced by the RCPsych Public Education Editorial Board. Series Editor: Dr Philip Timms. Translation reviewed by: Dr Rashda Tabassum & Dr Syed Ahmer. Original version updated: Dec. 2007. Translation updated: April 2008

© [2008] Royal College of Psychiatrists. You can link to, download, print, photocopy and distribute this leaflet free of charge. But you must not change it or repost it on a website.

 

For a catalogue of materials or copies of our leaflets contact: Leaflets Department, The Royal College of Psychiatrists, 17 Belgrave Square, London SW1X 8PG, Telephone: 020 7235 2351 x259. Charity registration number 228636 

This page maintained by Dr Syed Ahmer MRCPsych & Mr Muhammad Zaman Khan MA. Dept of Psychiatry, Aga Khan University, Karachi.  If you have suggestions for this section, please email us at: webmaster@rcpsych.ac.uk
Login
Make a Donation