Accessibility Page Navigation
Style sheets must be enabled to view this page as it was intended.
The Royal College of Psychiatrists Improving the lives of people with mental illness

الزائمر کی بیماری میں استعمال ہونے والی ادویات

Drug Treatment of Alzheimer's disease

 

 

تعارف :

 یہ کتابچہ ان ادویات کے بارے میں ہے  جو الزائمر کی بیماری (Alzheimer's disease) کے علاج میں  استعمال ہوتی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادویات کس طرح کام کرتی ہیں، یہ کیوں دی جاتی ہیں، ان کے مضر اثرات کیا ہیں اور ان کے متبادل طریقہ علاج کیا ہیں۔ الزائمر کی بیماری کے علاوہ یادداشت کی کمزوری کی اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

کولین ایسٹریز انہیبٹرز  (Cholinesterase Inhibitors)

اس گروپ کی مندرجہ ذیل تین ادویات برطانیہ میں اس مرض کے علاج کے لئے لائیسنس یافتہ ہیں۔

 

ڈونیپیزل  (Donepezil)

گیلینٹامین   (Galantamine)

ریوااسٹگمین (Rivastigmine)

 

 پاکستان میں گیلینٹامین دستیاب نہیں۔

 

ان ادویات کا آپس میں کوئی اہم فرق نہیں ہے۔ یہ عام طور پر ان علامات پر اثرانداز ہوتی ہیں، مثلاً یادداشت کی کمزوری ، چیزوں میں دلچسپی کا ختم ہوجانا اور گھبراہٹ۔ یہ ادویات اس مرض سے مکمل شفا تو نہیں دیتیں مگر کچھ محققین کا خیال ہے کہ یہ مرض کے بڑھنے کی رفتار کو کسی حد تک کم کرسکتی ہیں۔

ان ادویات کے فوائد  :

یہ یادداشت کو بہتر کر سکتی ہیں خاص کر نئی معلومات کو یاد رکھنا یا جو پہلے واقعات ذہن میں موجود ہوں ان کو یاد کرنے میں مدد دینا۔ ان کے کچھ اور فوائد بھی ہیں جیسے ذہن کا زیادہ با خبر رہنا یا چیزوں میں دلچسپی کا بڑھ جانا وغیرہ۔ بعض لوگ موڈ  میں بہتری محسوس کرتے ہیں جسکی وجہ سے وہ کام جو وہ کرنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں انہیں دوبارہ کرنے لگتے ہیں۔

 

افاقہ محسوس ہونے میں یا بیماری کے بڑھنے کی رفتار میں کمی محسوس ہونے میں چند مہینے لگ سکتے ہیں۔

مضر اثرات:

ان ادویات کے یہ تکلیف دہ اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

● متلی محسوس ہونا

● دست آنا (  پیچش)

● بھوک کم لگنا

●  پٹھوں میں کھچاؤ

● بے خوابی یا خواب زیادہ آنا

ان مضراثرات کو دوا کی مقدار میں کمی اور پھر بتدریج اضافے، اور کھانے کے بعد لاستعمال کرنے سے  کسی حد تک ذائل کیا جا سکتا ہے۔  یہ اثرات عام طور سے کچھ ہفتوں کے بعد کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اگر دوا بند کر دی جائے تو ختم ہو جاتے ہیں۔

ان کے بارے میں مزید تفصیلات ڈاکٹر یا  پیکٹ میں موجود کتابچہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

یہ دوائیں کس طرح کام کرتی ہیں؟ :

 ایسیٹائل کولین (Acetylcholine)ایک کیمیکل ہے جو دماغ کے ان حصوں میں جو یادداشت سے تعلق رکھتے ہیں ان میں پیغام رسانی کا کام دیتا ہے۔ الزائمر کی بیماری  میں دماغ کے وہ خلیے جو یادداشت سے متعلق ہیں وہ مرنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس کیمیکل کی کمی بھی ہو جاتی ہے۔

یہ ادویات دماغ میں اس کیمیکل کی مقدار میں اضافہ کرتی ہیں جس سے مرض کی علامات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ دوائیں کس حد تک کار آمد ہیں ؟

 ان ادویات کو استعمال کرنے والے تقریباً  پچاس ساٹھ فیصد مریض  چھ مہینے کے عرصے میں مرض کی علامات میں تھوڑی سی کمی محسوس کرتے ہیں یا ان کی طبیعت مزید خراب نہیں ہو تی۔ لیکن اس بات پر اتفاق نہیں پایا جاتا کہ یہ فوائد وقتی ہوتے ہیں یا یہ دوائیں لمبے عرصے تک کام کرتی رہتی ہیں۔ اگر شروع کے  چند مہینوں کے بعد کوئی افاقہ محسوس نہ ہو تو یہ دوائیں بند کر دینی چاہیئیں۔ برطانیہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل ایکسیلینس کا فیصلہ ہے کہ یہ دوائیں الزائمر کی بیماری کے شروع میں اتنا فائدہ نہیں پہنچاتیں جس حساب سے ان کا خرچہ ہوتا ہے اور یہ  دوائیں صرف اس وقت دینی چاہیئیں جب بیماری درمیانے درجے کی شدت اختیار کر چکی ہو،  اگرچہ بہت سے لوگ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔

ادویات کو استعمال کرنے کا طریقہ کار :

ان ادویات کو تھوڑی مقدار میں شروع کیا جاتا ہے اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ان میں بتدریج اضا فہ کیا جا تا ہے۔ ان ادویات سے مکمل فائدہ حاصل کرنے  کے لئے ضروری ہے کہ یہ با قا عدگی سے استعمال کی جائیں۔ اگر ابتدا میں کچھ تکلیف دہ اثرات ہوں تو پریشان نہ ہوں، اکثر یہ اثرات وقت گزرنے کے ساتھ کم ہو کر کچھد ہفتوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔

یہ دوائیں کتنے عرصے کے لیے لینی چاہیئیں ؟

 یہ ادویات شروع میں تین چار مہینے کے لیے دی جاتی ہیں۔ اگر ان سے تین چار ماہ میں فائدہ نظر نہ آئے تو ڈاکٹر کے مشورے سے یہ بند کردینی چاہیئیں۔ اگر ان سے فائدہ نظر آنے لگے تو اب تک اس پہ اتفاق نہیں کہ یہ کب تک دینی چاہیئیں۔ الزائمر کی بیماری میں ایک ٹیسٹ منی مینٹل اسٹیٹ ایکزام (Mini mental state examination) کیا جاتا ہے۔ اس وقت یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دوائیں صرف اس وقت استعمال کی جانی چاہیئیں جب الزائمر کی بیماری درمیانے درجے کی شدت کی ہو یعنی اس ٹیسٹ کا اسکور دس اور بیس کے درمیان ہو۔ لیکن اس بات کا کچھ ثبوت موجود ہے کہ بعض مریضوں کو  ہلکی اور شدید درجے کی بیماری میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔

 

ہو سکتا ہے کہ اس دوا کے شروع کرنے سے پہلے آپ کے کچھ خون کے ٹیسٹ  اور دماغ کا اسکین بھی کیا جائے تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ آپ کی یاد داشت کی کمزوری کی الزائمر کی بیماری سے ہٹ کے کوئی اور وجہ تو نہیں۔

(Memantine) میمانٹین

یہ  دوائی ۱۹۸۹ سے جرمنی میں ڈیمینشیا کے علاج کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس کا اثر دماغ کے ایک کیمیکل گلوٹامیٹ  (Glutamate)   پر ہوتا ہے  جو یادداشت اور نئی چیزوں کے سیکھنے کے عمل میں کام آتا ہے۔ الزائمر کی بیماری میں دماغ کے ٹوٹنے والے خلیات سے گلوٹامیٹ  بہت زیادہ مقدار میں باہر نکل جاتا ہے اور اس سے یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ ابھی تک جو  تحقیق ہوئی ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ یہ دوائی استعمال کرتے ہیں ان میں سے تقریباً آدھے سے کچھ زیادہ لوگوں میں ڈیمینشیا کے بڑھنے کی رفتار کچھ حد تک آہستہ ہو جاتی ہے، مگر یہ فائدہ ابھی تک زیادہ شدید ڈیمینشیا سے متاثر لوگوں میں ہی نظر آیا ہے۔ میمانٹین کے تکلیف دہ اثرات ،  جو بہت زیادہ شدید نہیں ہوتے، میں متلی، بے چینی، پیٹ کا درد اور سر درد شامل ہیں۔

 

  ابھی میمانٹین پر مزید تحقیق جاری ہے۔ نیشنل انسٹیوٹ آف کلینیکل ایکسیلینس برطانیہ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق برطانیہ میں میمانٹین عام مریضوں کو نہیں دی جانی چاہیے کیوں کہ اس بارے میں شبہات ہیں کہ اس سے کس حد تک فائدہ ہوتا ہے۔

دوسرے طریقہ علاج:

(Gingko Biloba) جنکو بالوبا

یہ قدرتی طور پر پائی جانے والی ایک دوائی ہے جو "میڈن ہیر" نام کے ایک درخت سے حاصل کی جاتی ہے۔ کافی عرصے سے اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ یادداشت کو بہتر کرتی ہے۔ کچھ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ الیزیائیمر کے مرض میں شاید اتنی ہی فائدہ مند ہے جتنی  کہ اوپر بتائی گئ ادویات۔ اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والے زہریلے مواد جو زخمی اور مرنے والے خلیوں سے نکلتا ہے ان کا مداوہ کرتی ہے۔ یہ شاید دماغ میں خون کا دورانیہ بھی بہتر کرتی ہے۔

اس کے کچھ مضر اثرات بھی ہیں۔ یہ خون کے جمنے میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے اس لئے وہ لوگ جو ان امراض میں مبتلا ہوں جن میں خون کے جمنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے  ، یا جو خون کو پتلا کرنے  والی ادویات مثلاً اسپرین یا وارفیرن لے رہے ہوں ان لوگوں کو یہ دوائی نہیں استعمال کرنی چاہیئے۔

عام خیال یہ ہے کہ اس دوائی کے باقاعدہ استعمال سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ دوائی اوپر بتائی گئ دوسری ادویات کے ساتھ بھی لی جا سکتی ہے۔ مگر ضروری ہے کہ اسے شروع کرنے سے پہلے آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

وٹامن۔ای  (VITAMIN-E)

یہ بھی قدرتی طور پر پائی جانی والی دوائی ہے جو سویابین کے تیل، سورج مکھی کے بیج، مکئ اور کپاس کے بیج، اناج یا مچھلی کے تیل یا گری دار میوے میں پائی جاتی ہے۔ وٹامن۔ای کے جسم میں بہت سے فائدے ہیں اور یہ بھی زخمی اور مرنے والے خلیوں سے نکلنے والے زہریلے مواد سے دوسرے خلیوں کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

 

کچھ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ الزائمر کے مرض کے بڑھنے کی رفتار کو کم کرسکتی ہے۔ امریکہ میں یہ دوائی دوسرے درجے کی  دوائی کے طور پر "کولین ایسٹریز انہبٹرز"کے بعد یا ان کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے ۔

یہ بھی خون کے جمنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مریض جو خون کو پتلا کرنے کی ادویات لے رہے ہوں یا خون کے جمنے میں کمی کے مرض میں مبتلا ہوں وہ ڈاکٹر سے مشورہ کر کے احتیاط سے یہ دوائی لیں۔ البتہ یہ دوائی اسپرین کے ساتھ لی جا سکتی ہے۔

سن 2004 کی ایک تحقیق میں یہ کہا گیا کہ 400 یونٹ سے زیادہ کا روزانہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی روزانہ کی زیادہ سے زیادہ مقدار 200 یونٹ ہونی چاہیئے۔

کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ خوراک جو اس وٹامن سے بھرپور ہو اس کا لمبے عرصے کے لئے باقاعدہ استعمال اس مرض کے خدشے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

سیلی جیلن (Selegeline)

 یہ دوائی عام طور سے پارکنسنز کی بیماری کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ناکارہ اور مرنے والے خلیوں سے نکلنے والے زہریلے مواد سے دوسرے خلیوں کو محفوظ کرتی ہے۔ مگر وٹامن ای کے مقابلے میں اس کے مضر اثرات زیادہ ہیں جیسے خون کے دباؤ میں کمی، متلی، چکر آنا، بہت زیادہ خواب آنا وغیرہ۔

کچھ تحقیق یہ بھی ظا ہر کرتی ہے کہ شاید یہ الزائمر کی بیماری کے بڑھنے کی رفتار بھی آہستہ کر سکتی ہے مگر اس بارے میں مزید تحقیق کی  ضرورت ہے۔

متبادل طریقہ علاج:

متبادل طریقہ علاج اور ادویات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ آئے روز اخبارات میں چھپنے والے بے بنیاد دعووں سے ہوشیار رہا جائے۔ کسی بھی دوائی کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔

یہ مرض مریض کے لواحقین کے لئے ایک نفسیاتی اور جسمانی چیلنج ہے۔ اس مرض سے نبردآزما ہونے کے لئے ضروری ہے کہ لواحقین اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

 

یہ کتابچہ رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

www.rcpsych.ac.uk/info

اور ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی

www.aku.edu/medicalcollege/psychiatry/index.shtml

کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

 

ترجمہ:  ڈاکٹر روحی افشاں، ڈاکٹر سمینہ کرامت

مدیر: ڈاکٹر سید احمر


RCPsych logoProduced by the RCPsych Public Education Editorial Board. Series Editor: Dr Philip Timms. Co-editors: Dr Martin Briscoe and Dr Carmelo Aquilina. Translated by: Dr Roohi Afshan, Dr Samina Karamat. Original version updated: Dec 2007. Translation: April 2008

© [2008] Royal College of Psychiatrists. You can link to, download, print, photocopy and distribute this leaflet free of charge. But you must not change it or repost it on a website.

For a catalogue of public education materials or copies of our leaflets contact: Leaflets Department, The Royal College of Psychiatrists, 17 Belgrave Square, London SW1X 8PG, Telephone: 020 7235 2351 x259.   Charity registration number 228636 

This page maintained by Dr Syed Ahmer MRCPsych & Mr Muhammad Zaman Khan MA. Dept of Psychiatry, Aga Khan University, Karachi.  If you have suggestions for this section, please email us at: webmaster@rcpsych.ac.uk

Login
Make a Donation