Accessibility Page Navigation
Style sheets must be enabled to view this page as it was intended.
The Royal College of Psychiatrists Improving the lives of people with mental illness

زچگی کے بعد ہونے والی نفسیاتی بیماریاں

Mental Illness after Childbirth

 

 

تعارف

ماہرین بیماریوں کے اس گروہ کو "پیورپیرل سائیکوسس"  (puerperal psychoses)کہتے ہیں۔ "پیورپیرل" کا مطلب ہے بچے کی پیدائش کے بعد کے  چھ ہفتے اور "سائیکوسس" کا مطلب ہے  شدید ذہنی بیماری لہٰذا "پیورپیرل سائیکوسس" کا مطلب ہےایسی شدید ذہنی بیماری جو کسی عورت میں زچگی کے فوراً بعد رونما ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر حیرانی  کا باعث ہوتی ہے کیونکہ عام طور سے توقع یہ ہوتی ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد مائیں بہت خوش ہوں گی۔  

 

پیورپیرل سائیکوسس بہت کم یعنی ہر پانچ سو زچگیوں میں سے کسی ایک میں ہوتا ہے۔  اگر کوئی عورت اس بیماری میں پہلے مبتلا رہ چکی ہو یا اس کے خاندان کا کوئی فرد اس قدر شدید ذہنی مرض میں  مبتلا ہوا ہو  کہ اسے نفسیاتی علاج کی ضرورت پڑی ہو تو اس  کے اس مرض سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

 

یہ خیال کیا  جاتا تھا کہ پیورپیرل سائیکوسس دوسرے اوقات میں ہونے والی دیگر بیماریوں  سے الگ ایک خاص ذہنی بیماری ہے تاہم اب اسے مینک ڈپریشن (manic-depression)یا شیزوفرینیا سمجھا جاتا ہے جس میں بچے کی موجودگی کی وجہ سے کچھ خاص مسائل ہوتے ہیں۔

 

بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ماں میں تین اہم نفسیاتی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں:

 

مینیا (Mania)

ایسی ماں جو مینیا میں مبتلا ہو بے انتہا توانائی اور اعتماد سے بھرپور ہوتی ہے ۔ ایسی ماں آرام نہیں کرتی، ساری رات جاگتی ہے، کھانا بہت کم کھاتی ہے حالانکہ وہ بے انتہا کام کر رہی ہوتی ہے اور بول رہی ہوتی ہے ۔وہ اپنے بچے کو نظرانداز کرنے لگتی ہے کیونکہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اسے بہت سارے کام کرنے ہیں مثلاً خریداری، مستقبل کے لیے منصوبے بنانا، گھر  اور اپنی زندگی کو دوبارہ ترتیب دینا وغیرہ۔  گوکہ عام طور پر خوشگوار موڈ میں ہوتی ہے لیکن اگر اس کے غیر حقیقی منصوبے  پورے نہ ہوں جیسا کہ اکثر ہوتا ہے تو وہ بہت زیادہ چڑچڑی ہوجاتی ہے۔ وہ ماں اور  اس کا بچہ دونوں کی  صحت کے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

 

ڈپریشن

شدید ڈپریشن میں مبتلا ماں بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہ شدیدتکلیف میں ہوتی ہے ، مایوسی کا شکار ہوتی ہے اور شدید کمزوری اور تھکن کا شکار ہوتی ہے۔

 

ڈپریشن میں مبتلا ماں میں چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اپنے آپ کو الزام دینے، اپنے آپ کو برا سمجھنے اور حقیر سمجھنے کے خیالات اکثر موجود ہوتے ہیں۔، مریضہ یہ بھی محسوس کرتی ہے کہ دوسرے لوگ  بھی اس کے بارے میں ایسا ہی سوچتے ہیں۔ اس کی خوراک بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کی نیند بھی بہت کم ہو جاتی ہے اور صبح  سویرے(تقریباً صبح 3 بجے) اس کی آنکھ  کھل جاتی ہے اور اس وقت اس کی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ اس کے خیالات خودکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ شاذو نادر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ماں اس شدید ڈپریشن میں اپنی اور اپنے بچے کی زندگی ختم کردے۔

 

شیزوفرینیا

شیزوفرینیا ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے  جس میں ماں کے خیالات اور احساسات عجیب سے ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سوچ سکتی ہے کہ اس کے آس پاس جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ کسی خاص طریقے سے اس سے تعلق رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسے ایسی غیبی آوازیں سنائی دے رہی ہوں جو اس سے  اس کے یا اس کے بچے سے متعلق باتیں کررہی ہوں۔  اسے یہ یقین ہو سکتا ہے  کہ اس کا بچہ عجیب ہے، وہ کوئی شیطان ہے یا کوئی بہت بڑی ہستی ہے۔ اسے یہ بھی محسوس ہوسکتا ہے کہ اسے کچھ دوسرے لوگ کنٹرول کر رہے ہیں جو اسے فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ گھر والوں کو اکثر سمجھ نہیں آتا کہ وہ اس طرح کی باتیں کیوں کرنے لگی ہے۔

 

وہ اپنے بچے کو نظر انداز کرسکتی ہے، اس کے ساتھ عجیب حرکتیں کرسکتی ہے یا اگر اسے ایسا لگے کہ لوگ بچے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ اس کی غیر معمولی حفاظت کرنے لگے گی۔

 

یہ بیماریاں کیوں شروع ہو جاتی ہیں ؟

پیورپیرل سائیکوسس کے ہونے کی  سب سے بڑی وجہ غالباً حمل کے اختتام اور زچگی کے موقع پر بڑے پیمانے پر ہونے والی ہارمون کی تبدیلیوں کے اثرات ہیں۔

اس بیماری کے ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ بچے کی پیدائش کے وقت ہوتا ہے خاص طور پر زچگی کے بعد کے ابتدائی چند دنوں میں۔ کچھ خواتین میں پیدائشی طور پر پیورپیرل سائیکوسس ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے جبکہ دیگر اپنی زندگی کے پرانے تجربات کے نتیجے میں اس بیماری کا شکار ہوسکتی ہیں۔

 

کیا اس کا علاج کیا  جاسکتا ہے؟

اس طرح کی ذہنی بیماری شدید نوعیت کی ہوتی ہے تاہم  جلدی تشخیص ہو جانے کی صورت میں اس کا آسانی سے موثر علاج کیا جا سکتا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا پتہ  جلد از جلد چل جائے۔ اس لیے گائناکولوجسٹ، جنرل فزیشن، دائیوں اور ہیلتھ وزیٹرز کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سائیکوسس ہوتا ہے اور یہ کہ اس بیماری کی علامات یعنی شدید بے خوابی، ہر چیز سے الگ تھلگ ہو جانا یا بے چینی،  کو کس طرح پہچانا جائے۔

 

یہ بات بہت اہم ہے کہ جب کسی عورت کے ہاں ولادت متوقع ہو تو اس سے پوچھ لیا جائے کہ آیا وہ یا اس کے خاندان کا کوئی اور فرد ماضی میں ذہنی امراض میں مبتلا رہا ہے۔ اگر ایسا مرض ہونے کا شبہ ہو تو سائیکائٹرسٹ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

اس کا علاج کیا ہے؟

سائیکائٹرسٹ کو ماں، بچے اور خاندان تینوں  کی بھلائی میں دلچسپی ہوتی ہے۔ عام طور سے بیماری کی شدت کی وجہ سے ہسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ماں بہت شدید بیمار نہ ہو مثلاً  اسے خودکشی کے خیالات نہ آ رہے ہوں تو بعض کیسز میں گھر پہ علاج کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

پیورپیرل سائیکوسس میں ادویات یا جسمانی علاج کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے۔ علاج شروع کرنے میں ذرا سی بھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے تاکہ ماں اور بچے میں تعلق کم از کم عرصے کے لیے متاثر ہو۔

 

باتوں کے ذریعے علاج (سائیکوتھراپی) کے نتائج عام طور پر ہفتوں اور بعض اوقات مہینوں تک ظاہر نہیں ہوتے جبکہ ادویات یا جسمانی علاج کے نتائج دنوں یا ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ 

اینٹی ڈپریسنٹ اور اینٹی سائکوٹک ادویات عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ واحد جسمانی علاج ایلیکٹروکنولسیو تھیراپی (ECT)ہے جو  سننے میں خطرناک لگتی ہے لیکن شدید ڈپریشن کی حالت میں بے حد موثر ثابت ہوتی ہے اور جان بچاسکتی ہے۔

اس سلسلے میں ہم ہارمونز کا استعمال نہیں کرسکتے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ ہارمون کی تبدیلی کس طرح کام کرتی ہے۔ تاہم وہ خواتین جن کو ایک بار  پیورپیرل سائیکوسس ہوچکا ہے ان میں ہارمون دوبارہ اس کو ہونے سے روکنے میں  کسی حد تک مدد کرسکتے ہیں۔

 

دودھ پلانا ماں اور بچے میں ایک طاقتور تعلق کو جنم دیتا ہے اس لیے وہ ادویات جو دودھ کے ذریعے بچے میں پہنچ سکتی ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔ خوش قسمتی سے اینٹی ڈپریسنٹ دودھ میں نہایت معمولی مقدار میں شامل ہوتی ہیں اور ان کی وجہ سے دودھ پلانے سے روکنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ای سی ٹی اس سلسلے میں بالکل بھی رکاوٹ نہیں ہے۔ تاہم  لتھیم کاربونیٹ جو  مینک ڈپریشن کی سب سے طاقتور دوا ہے، دودھ میں منتقل ہوجاتی ہے اس لیے اگر ضرورت ہو تو بوتل سے دودھ پلانے کی تجویز دی جاتی ہے۔

 

گھر والے کس طرح مریضہ کی  مدد کرسکتے ہیں؟

پیورپیرل سائیکوسس  جیسی شدید نوعیت کی ذہنی بیماری  ایک نئ ماں کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اپنے یا بچے کے کام کرنے مثلاً دودھ پلانے، کپڑے دھونے، کپڑے تبدیل کرنے اور بچے کا خیال رکھنے میں اس کی مدد کی جائے۔

مریضہ کے شوہر اور گھر کے افراد کو بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ مریضہ کی بیماری کے لیے اپنے آپ کو الزام نہ دیں یا اس پہ غصے کا اظہار نہ کریں۔

 

اس مرض کے دوبارہ ہونے کا کتنا امکان ہے؟

دوبارہ پیورپیرل سائیکوسس ہونے کا امکان تقریباً بیس فیصد  ہوتا ہے،  مینک ڈپریشن میں اس کا خطرہ شاید تھوڑا اور  زیادہ ہو۔ اگر ایک عورت کو  پیورپیرل سائیکوسس ہوچکا ہو اور وہ دوسری بار ماں بن رہی ہو تو  خاص طور پر  بچے کی پیدائش کے بعد کے ابتدائی چند دنوں میں بہت محتاط دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بیماری دوبارہ ہونے کی کوئی بھی علامت ہو تو علاج کا آغاز فوراً کردینا چاہیے۔ تاہم پیورپیرل سائیکوسس میں مبتلا آدھی خواتین دوبارہ کسی ذہنی مرض کا شکار نہیں ہوتیں۔

 

 

یہ کتابچہ رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

www.rcpsych.ac.uk/urdu

اور ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی

www.aku.edu/medicalcollege/psychiatry/index.shtml

کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

 

مدیر: ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک)

نظرَثانی: ڈاکٹر مراد موسیٰ خان (ایم آر سی سائیک)


RCPsych logoProduced by the RCPsych Public Education Editorial Board. Series Editor: Dr Philip Timms. Reviewed by: Dr Murad Moosa Khan. Original version updated: Jan 2008. Translation: April 2008

 

© [2008] Royal College of Psychiatrists. You can link to, download, print, photocopy and distribute this leaflet free of charge. But you must not change it or repost it on a website.

 

For a catalogue of public education materials or copies of our leaflets contact: Leaflets Department, The Royal College of Psychiatrists, 17 Belgrave Square, London SW1X 8PG, Telephone: 020 7235 2351 x259.   Charity registration number 228636 

 

This page maintained by Dr Syed Ahmer MRCPsych & Mr Muhammad Zaman Khan MA. Dept of Psychiatry, Aga Khan University, Karachi.  If you have suggestions for this section, please email us at: webmaster@rcpsych.ac.uk

Login
Make a Donation