Accessibility Page Navigation
Style sheets must be enabled to view this page as it was intended.
The Royal College of Psychiatrists Improving the lives of people with mental illness

پوسٹ نیٹل ڈپریشن

Postnatal Depression

 

پوسٹ نیٹل ڈپریشن (بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والا ڈپریشن)

پوسٹ نیٹل ڈپریشن کیا ہے؟

جب ایک ماں  بچے کی پیدائش کے بعد بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ڈپریشن کا شکار ہو جائے تو اسے پوسٹ نیٹل ڈپریشن کہتے ہیں۔  بعض اوقات ا س کی  بظاہر کوئی نمایاں وجہ ہوتی ہےلیکن  اکثر کوئی ظاہری وجہ نظر نہیں آتی۔ یہ ڈپریشن اس وقت بہت تکلیف دہ ہو سکتا ہے جب آپ نے مہینوں کے حمل کے دوران اپنے ہونے والے بچے کا نہایت شدت سے انتظار کیا ہوتا ہے۔ آپ خود کو اس طرح محسوس کرنے پر احساس جرم کاشکار بھی ہوسکتی ہیں اور یہ  بھی محسوس کرسکتی ہیں کہ آپ ماں بننے کے بعد جو ذمہ داریاں ہوتی ہیں وہ صحیح  طرح سے نہیں پوری کر سکتیں۔ یہ کیفیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے ۔ معمولی درجے کا پوسٹ نیٹل ڈپریشن گھر والوں اور  خاندان والوں کی زیادہ دیکھ بھال کرنے سے ہی ٹھیک ہو جاتا ہے  جبکہ شدید درجے کے ڈپریشن کے لیے عام طور سے ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہو جاتا ہے۔

 

یہ کتنا عام ہے؟

تقریباً ہر دس میں سے ایک ماں  کو بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ نیٹل ڈپریشن  ہوتا ہے۔  اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ ڈپریشن مہینوں اور بعض اوقات سالوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

 

پوسٹ نیٹل ڈپریشن میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟

اداسی :

آپ زیادہ وقت یا ہر وقت ناخوش اور اداس رہتی ہیں۔  دن کے کسی خاص حصے میں جیسے شام یا صبح میں آپ کی طبیعت اور بھی زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ بعض دفعہ خوشگوار دن ہوتے ہیں جب آپ محسوس کرتی ہیں کہ اب چیزیں بہتر ہو رہی ہیں  مگر جب اس کے بعد اداسی والے دن آتے ہیں تو مایوسی مزید بڑھ سکتی ہے اور کبھی کبھی تو زندگی جینے کے قابل بھی نہیں لگتی۔

چڑ چڑاپن :

آپ  بچوں کے ساتھ اور کبھی کبھار اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ چڑچڑی ہو سکتی ہیں۔ زیادہ امکان اس بات کا ہوتا ہے کہ آپ اپنے شوہر کے ساتھ بھی بلا وجہ غصہ کریں جس کی سمجھ میں یہ نہ آئے کہ آپ کیوں غصہ کر رہی ہیں۔

تھکاوٹ :

تمام نئی مائیں بہت تھکا تھکا محسوس کرتی ہیں  مگر جس ماں کو پوسٹ نیٹل ڈپریشن ہو اس کو  اداسی اتنا زیادہ تھکا دیتی ہے کہ وہ خود کو  جسمانی طور پر بیمار محسوس کرنے لگتی ہے۔

نیند کی کمی

حالانکہ آپ بہت زیادہ تھکی ہوئی ہوتی ہیں لیکن پھر بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو نیند نہ آئے اور صبح سویرے آپ کی آنکھ کھل جائے۔

بھوک نہ لگنا :

اداس ما ؤں کے پاس عام طور پر کھانے کے لئے وقت نہیں ہوتا یا ان کو کھانے میں دلچسپی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان میں بے چینی اور چڑ چڑاپن پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض ماؤں کو زیادہ کھانے سے ذہنی سکون ملتا ہے لیکن اس کے بعد ان کو وزن بڑھنے کی پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔

کسی بھی چیز کا مزہ ختم ہو جانا :

آپ محسوس کرتی ہیں کہ جیسے کسی چیز میں کوئی خوشی یا دلچسپی نہیں رہی، آپ کو اب کسی چیز میں مزا نہیں آتا۔

میاں بیوی کے جسمانی تعلقات:

بہت دفعہ نئی ماؤں کو بچے کی پیدائش کے فوراً بعد جنسی تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ بچے کی پیدائش کے بعد جسمانی تعلقات میں دلچسپی نہ ہونے کی  کئ اور وجوہات بھی ہوتی ہیں مثلاً یہ عمل تکلیف دہ ہو سکتا ہے ، آپ زیادہ تھکا وٹ محسوس کر رہی ہوتی ہیں یا آپ کی ساری توجہ نئے بچے کی طرف ہوتی ہے۔ لیکن پوسٹ نیٹل ڈپریشن میں اس طرح کی تمام خواہشات بالکل ختم ہو جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے شوہر کے لیے یہ سمجھنا آسان نہ ہو کہ آپ کو اب اس عمل میں دلچسپی کیوں نہیں رہی۔

حالات کا مقابلہ نہ کر پانا :

ڈپریشن کی وجہ سے آپ محسوس کرسکتی ہیں کہ آپ ہر وقت مصروف رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود آپ کوئی کام صحیح طرح سے نہیں کر پاتیں اور آپ کا روٹین بالکل صحیح نہیں ہو پا رہا۔

 احساس جرم :

ڈپریشن آپ کی سوچ کو تبدیل کر دیتا ہے اور آپ ہر چیز کا منفی پہلو دیکھنے لگتی ہیں ۔ ہو سکتا ہے آپ معمولی باتوں کے لیے اپنے آپ کو مورد الزام ٹھہرانے لگیں، اپنے آپ کو بیکار اور فضول سمجھنے لگیں یا یہ سمجھنے لگیں کہ آپ اپنی طبیعت خراب ہونے کی ذمہ دار خود ہیں۔

بے چینی :

ہو سکتا ہے آپ کو بہت زیادہ پریشانی ہونے لگے کہ کہیں آپ کا بچہ چیخنے نہ لگے، کہیں اس کے گلے میں کچھ نہ پھنس جائے، یا اس کو کسی اور طرح سے  نقصان نہ پہنچ جائے یہاں تک کہ آپ بچے کے ساتھ اکیلے رہنے سے ڈرنے لگیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے بچے سے لگاؤ کی بجائے اس سےبیزاری محسوس کرنے لگیں ۔ اگر آپ کا بچہ رو رہا ہو تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی سمجھ میں نہ آئے کہ آپ کا بچہ کیا محسوس کر رہا ہے یا اس کو کیا چاہیئے۔

 

اگر آپ کو بچے سے شدید محبت ہو تو پھر بھی ہو سکتا ہے آپ گھبراہٹ محسوس کریں۔ زیادہ تر نئ ما ئیں اپنے بچے کی صحت کے بارے میں پریشان ہوتی ہیں مگر پوسٹ نیٹل ڈپریشن  کا شکار مائیں اس بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہو جاتی ہیں۔مائیں پریشان رہتی ہیں کہ:

  •  کہیں آپ انفکشن، بے احتیا طی ، غلط نشو ونما یا اچانک سانس بند ہونے کی وجہ سے اپنے بچے کو کھو نہ دیں۔
  • بچے کا وزن بڑھ رہا ہے کہ نہیں۔
  • بچہ بہت زیادہ تو نہیں رور ہا، اتنا خاموش کیوں ہے ، یا  کہیں بچے کا سانس بند تو نہیں ہو گیا؟
  • کہیں وہ خود ہی اپنے بچے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔
  • ان کی اپنی صحت نہ خراب ہو جائے۔

 

 آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہر وقت پریشان رہتی ہیں، آپ ڈر جاتی ہیں ، نبض تیز ہو جاتی ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے جیسے آپ کو دل کی بیماری ہے یا فالج ہونے والا ہے۔ آپ سوچنے لگتی ہیں کہ کہیں آپ کو  کوئی خطرناک بیماری  تو نہیں ہے اور کیا آپ کبھی دوبارہ صحت مند محسوس کریں گی یا نہیں ؟

 

بچے کی پیدائش سے متعلقہ دوسری نفسیاتی بیماریاں:

بے بی بلیوز :

بچے کی پیدائش کے تیسرے چو تھے دن تقریباً آدھی سے زیادہ ما ئیں طبیعت میں گراوٹ ، زیادہ رونے کو دل چاہنا اور خود پہ بے یقینی محسوس کرتی ہیں۔ اس کیفیت کو بے بی بلیوز کہتے ہیں اور یہ کچھ دن ٹھیک ہو جاتی ہے۔

حمل کے دوران ڈپریشن :

یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ ڈپریشن حمل کے دوران بھی ہو سکتا ہے۔ یہ اس سے زیادہ عام ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں اور اس کا علاج بھی پوسٹ نیٹل ڈپریشن کی طرح ہی کیا جاتا ہے۔

 

پیورپیرل سائیکوسس

 (Puerperal Psychosis)

 

یہ ایک شدید بیماری جو ہر پانچ سو  میں سے ایک ماں کو متاثر کرتی ہے اور عام طور پر بچے کی پیدائش کے کچھ دنوں یا ہفتوں بعد شروع ہوتی ہے۔ یہ بیماری زندگی کے لیے خطرہ بھی ثابت ہو سکتی ہے اس لیے اس کا فوری علاج لازمی ہے۔اس میں مریضہ ایسی باتیں کرنے لگتی ہے جو باقی گھر والوں کو عجیب سی لگتی ہیں اور اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب کیا کر گزرے گی۔ اس میں مزاج تیزی سے بدلتا ہے، عجیب وغریب خیالات آتے ہیں اور اکیلے میں  آوازیں آنے لگتی ہیں۔ اس میںڈاکٹری علاج لازمی ہوتا ہے اور ہسپتال میں داخلے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

 

 اگر آپ کو یا آپ کے خاندان میں کسی کو پوسٹ نیٹل ڈپریشن یا بائی پولر ڈس آرڈر(Bipolar Disorder)ہو چکا ہو تو آپ کو اس بیماری کے ہونے کا خطرہ اور ماؤں سے زیادہ ہو گا۔اگر  آپ کو ان بیماریوں میں سے  کوئی بھی مسئلہ رہ چکا ہوتو دوران حمل اپنے معالج  کو بتانا ضروری ہے کیونکہ علاج سے اس کے دوبارہ ہونے کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ یہ ایک شدیدبیماری ہے مگر صحیح علاج سے مکمل  صحت یابی ہو سکتی ہے۔

پوسٹ نیٹل ڈپریشن  کب ہوتا ہے؟

زیادہ تر پوسٹ نیٹل ڈپریشن بچے کی  پیدائش کے ایک مہینے کے اندر شروع ہو جاتا ہے مگر یہ چھ ماہ تک بھی شروع  ہو سکتاہے۔

 

پوسٹ نیٹل ڈپریشن کیوں ہو جاتا ہے؟

ہم اس بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتے کہ پوسٹ نیٹل ڈپریشن  کیوں ہوتا ہےاور یقین سے یہ کہنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ کون اس کا شکار ہوگا اور کون نہیں۔ اس کی کوئی ایک وجہ نہیں مگر اس کا خطرہ عام طور سے ان حالات میں بڑھ جاتا ہے؛

·        اگر ماں کو پہلے ڈپریشن ہو چکا ہو

·        اگر شوہر خیال کرنے والا نہ ہو

·        اگر بچہ وقت سے پہلے پیدا ہو گیا ہو یا بہت بیمار ہو

·        اگر ماں خود  بچپن میں اپنی ماں کو کھو چکی ہو

·        اگر پچھلے کچھ عرصے میں ماں بہت پریشانیوں سے گزری ہو مثلاً قریبی رشتہ داروں کا انتقال ہو جانا، ملازمت کا ختم ہو جانا،  یا گھر اور پیسوں کا مسئلہ۔

 اگر ان میں سے  کوئی وجہ بھی نہ ہو تو پھر بھی آپ پوسٹ نیٹل ڈپریشن  کا شکار ہو سکتی ہیں ۔دوسری طرف ان مسا ئل کے ہونے سےیہ لازمی نہیں کہ آپ پوسٹ نیٹل ڈپریشن کا  شکار ضرور ہونگی۔

 

ہارمونز کا کیا کردار ہے؟

 ایسٹروجن، پرو جیسٹرون (اور باقی ہارمونز جن کا تعلق حمل سے ہے)  زچگی کے فوراً بعد خون میں بہت کم ہو جاتے ہیں لیکن اس بارے میں کچھ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ  یہ آپ کے مزاج اور جذبات کو کس حد تک متاثرکرتے ہیں۔  جن عورتوں کو پوسٹ نیٹل ڈپریشن ہوتا ہے اور جن کو نہیں ہوتا ان میں ہارمونز کے کوئی واضح فرق نظر نہیں آتے اور تحقیق سے اب تک یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ ہارمونل تبدیلیاں ڈپریشن کے لئے بنیادی وجہ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہارمون کی تبدیلیاں  بی بلیوز اور پیورپیرل سائیکوسس میں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہوں۔

کیا پوسٹ نیٹل ڈپریشن کا شکار مائیں اپنے بچوں کو نقصان پہنچاتی ہیں؟

پوسٹ نیٹل ڈپریشن کا شکار مائیں اکثر پریشان ہوتی ہیں کہ کہیں ان کے بچے کو ان سے نقصان نہ پہنچ جائے لیکن حقیقت میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔  کبھی کبھار ، بہت تھکاوٹ اور بے چینی کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے بچے کو مارنے یا جھنجھوڑنے کے بارے میں سوچیں۔ کبھی کبھار بہت سی ما ئیں اور باپ بچے کے رونے سے تنگ آ کر ایسا کرنے کا سوچتے ہیں لیکن بیشتر مائیں ایسا نہیں کرتیں۔

اگر کسی کو پوسٹ نیٹل ڈپریشن ہو تو اس کی کیا مدد کی جا سکتی ہے؟

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ڈپریشن ہے اور محض بے بی بلیوز نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ سمجھ نہ پائیں کہ آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے اور اس بات کو ماننے میں شرمندگی محسوس کریں کہ آپ ماں بننے کے بعد  اتنی پرجوش نہیں ہیں جتنی اور مائیں ہوتی ہیں۔ اپنے ڈاکٹر سے اس سلسلے میں مشورہ کریں۔

اپنی مدد آپ

حمل کے دوران:

  • حمل کے دوران اپنا خیال رکھیں اور بہت زیادہ کام کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنے آپ کو بہت زیادہ تھکنے سے محفوظ رکھیں، اپنی خوراک کا خیال رکھیں اور آرام کا وقت ضرور نکالیں۔
  • کسی ایسے شخص کا ہونا جس سے آپ کھل کر اپنے دل کی بات کر سکیں بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
  • اگر آپ کو پہلے پوسٹ نیٹل ڈپریشن ہو چکا ہے تو اپنے ڈاکٹر سے ملتے رہیں۔ اس سے پوسٹ نیٹل ڈپریشن کی تشخیص جلدی ہو سکے گی۔

 

بچے کی پیدائش کے بعد:

  • اگر آپ اداس محسوس کرنے لگیں تو اپنے قریبی لوگوں کو ضرور بتائیں۔ اور بھی بہت سی عورتیں پہلے اس تجربے سے گزر چکی ہیں۔ اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔ وہ آّپ کی مدد کر سکیں گے۔
  • اپنے جسمانی آرام کا ضرور خیال رکھیں۔
  • اچھی غذا کھائیں۔ سلاد، تازہ سبزیاں ، پھل اور پھلوں کا جوس سب صحت کے لیے اچھے ہوتے ہیں اور انہیں زیادہ پکانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
  • اگر ڈاکٹر آپ کو بتائے کہ آپ کو پوسٹ نیٹل ڈپریشن ہے تو  زیادہ خوف زدہ نہ ہوں۔ کم ازکم آپ جانتی ہیں کہ آپ کو کیا بیماری ہے،آپ سے پہلے بھی بہت سی مائیں اس بیماری سے گزر چکی ہیں اور علاج کے ساتھ کچھ عرصے میں آپ بہتر ہو جائیں گی۔اگر آپ کے شوہر، آپ کی  دوستوں اور خاندان  والوں کو یہ معلوم ہوگا کہ آپ پوسٹ نیٹل ڈپریشن کا شکار ہیں تو وہ آپ کی زیادہ بہتر طور پہ دیکھ بھال کر سکیں گے۔

 

دوسرے لوگ پوسٹ نیٹل ڈپریشن کی مریضہ کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

● اگر آپ کی بیوی یا بہن  آپ کو بتائے کہ اس نے جب سے بچے کو جنم دیا ہے وہ بہت اداس محسوس کر رہی ہے تو زیادہ پریشان یا مایوس نہ ہوں ۔ اس کی باتوں کو غور سے سنیں اور خیال رکھیں کہ اسے وہ مدد ملے جس کی اسے ضرورت ہے۔

● اگر یہ تشخیص ہو کہ انہیں پوسٹ نیٹل ڈپریشن ہے تو بہت پریشان یا مایوس نہ ہوں ۔یہ ایک عام بیماری ہے جس کا آسانی  سے علاج ہو سکتا ہے اور آپ کی عزیزہ جلد ہی صحتیاب ہو سکتی ہے۔

● یاد رکھیئے کہ آپ کو خود بھی سہارے کی ضرورت ہو سکتی  ہے۔ اگر یہ آپ کا پہلا بچہ ہے تو آپ ہو سکتا ہے کہ آپ محسوس کریں کہ اپنے بچے اور بیوی کی فوری ضروریات کے سامنے آپ نظر انداز ہو رہے ہیں۔ ناراض نہ ہوں۔  آپ کی بیوی کو اس وقت  آپ کے سہارے اور آپ کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہو گی۔  بچے کی دیکھ بھال میں اس کی مدد کرنے ، اس کی باتیں ہمدردی سے سننے، صبر و تحمل، اور اس کی دلدہی سے چیزیں زیادہ جلدی بہتر ہوں گی۔ آپ کی اہلیہ  اس مدد کی اس وقت بھی  قدر کریں گی جب وہ بہتر محسوس کرنے لگیں گی۔

 

پوسٹ نیٹل ڈپریشن کی تشخیص

 

ڈاکٹروں اور نرسوں کو نئی ماؤں کی ذہنی صحت پہ بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اگر وہ صرف مندرجہ ذیل تین سوالات پوچھیں تو انہیں اندازہ ہو سکتا ہے کہ خواتین کو پوسٹ نیٹل ڈپریشن تو نہیں ہو رہا؛

۱۔ پچھلے ایک مہینے میں کیا آپ اداس رہی ہیں، مایوس رہی ہیں، روتی رہی ہیں؟

۲۔ پچھلے ایک مہینے میں کیا آپ کو ایسا محسوس ہوا ہے کہ کسی چیز میں مزا نہیں آ رہا، دل نہیں لگ رہا، یا کو ئی کام کرنے کو دل نہیں چاہتا؟

۳۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو کسی چیز یا کام کے لیے مدد کی ضرورت ہے؟

 

اگر میں علاج نہیں کروانا چاہوں ؟

پوسٹ نیٹل ڈپریشن کی اکثر مریضائیں  بغیر کسی علاج کے کچھ ہفتوں، کچھ مہینوں یا اس سے بھی لمبے عرصے کے بعد خود بخود بغیر کسی علاج کے بہتر محسوس کرنے لگتی ہیں۔ لیکن پوسٹ نیٹل ڈپریشن سے بچے کی پیدائش کی ساری خوشی غارت ہو سکتی ہے، اس سے نئی ماں  کے اپنےبچے اور شوہر  کے ساتھ تعلق پر بھی اثر پڑتا ہے اور اس سے نوزائیدہ بچے کی نشو و نما پہ بھی اثر پڑتا ہے اس لیے جتنے کم وقت میں یہ ٹھیک ہو جائے  اتنا ہی بہتر ہے۔ اس کا علاج جلد از جلد کروانا چاہیے۔

سائیکو تھراپی کے بارے میں معلومات :

اس مرض سے نجات آپ کے لئے ممکن ہو سکتی ہے اگر آپ کسی ہمدرد سمجھدار اور تنقید نہ کرنے والے دوست یا ماہر نفسیات سے بات کریں۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات

جن لوگوں کا ڈپریشن شدید ہو  اور خود  سے ٹھیک نہ ہو  تو ایسی صورت میں اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔  اینٹی ڈپریسنٹ  دوا کا فائدہ  تقریباً دو ہفتے میں شروع ہوتا ہے ۔ جب آپ بہتر محسوس کرنا شروع کردیں تو اس کے بعد تقریباً چھ ماہ تک اس کا استعمال جاری رکھیں۔

یہ (اینٹی ڈپریسنٹ) دوائیں کس طرح کام کرتی ہیں ؟

یہ پوری طرح واضح نہیں مگر اینٹی ڈپریسنٹ دماغ میں موجود دو کیمیات کی کارکردگی پہ اثر ڈالتی ہیں جن کا نام سیروٹو نن اور نور ایڈر ینا لین ہے۔

کیا اینٹی ڈپریسنٹ دواؤں کے نقصانات ہوتے ہیں؟

جدید اینٹی ڈپریسنٹ ادویات نسبتاً محفوظ ہیں ۔ علاج شروع کرنے کے فوراً  بعد ان کی وجہ سے متلی ہو سکتی ہے یا بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کچھ دنوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری اقسام کی اینٹی ڈپریسینٹ ادویہ  لینے سے آپ غنودگی محسوس کر سکتے ہیں یا ان کی وجہ سے منہ سوکھتا ہے۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے ڈاکٹر کو معلوم ہو کہ آپ بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہیں۔ کئ اینٹی ڈپریسنٹس ایسی ہیں جن کے بارے  میں  کوئی ثبوت نہیں کہ ان سے ماں کے دودھ پلانے کی صورت میں بچوں کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔ لیکن اس بات کا حتمی فیصلہ کرنا صرف ماں کا حق ہے کہ وہ دودھ پلانے کے ساتھ دوا لینا چاہتی ہے کہ نہیں۔

 

کیا کوئی اور طریقہ علاج بھی ہے ؟

اس بات کا کچھ ثبوت ہے کہ روزانہ ورزش کرنے سے آپ کا مزاج  بہتر ہوتا ہے۔

 

پھر کون سا طریقہ علاج بہتر ہے ؟

سائیکو تھراپی اور اینٹی ڈپریسنٹ دونوں ہی موثر طریقہ علاج ہیں لیکن اگر آپ کو شدید ڈپریشن ہے یا طویل عرصے سے ہے تو اینٹی ڈپریسنٹ تجویز کئے جانے کا امکان زیادہ ہے ۔ یہ سائیکوتھراپی سے زیادہ جلدی اثر دکھاتی ہیں۔

 

یہ کتابچہ رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

www.rcpsych.ac.uk/info

اور ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی

www.aku.edu/medicalcollege/psychiatry/index.shtml

کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

 

ترجمہ: ڈاکٹر عمران اعجاز حیدر (ایم آر سی سائیک)، ڈاکٹر سارہ حنیف

مدیر: ڈاکٹر سید احمر (ایم آر سی سائیک)

 


RCPsych logoProduced by the Royal College of Psychiatrists Public Education Editorial Board. Series Editor: Dr Philip Timms. Translated by Dr Imran Ijaz Haider MRCPsych and Dr Sarah Hanif. Reviewed by Dr Syed Ahmer. Original version updated: Aug 2007, Translation date: May 2008

 

© [2008] Royal College of Psychiatrists. This leaflet may be downloaded, printed out, photocopied and distributed free of charge as long as the RCPsych is properly credited and no profit is gained from its use. Permission to reproduce it in any other way must be obtained from the Head of Publications. The College does not allow reposting of its leaflets on other sites, but allows them to be linked to directly.

 

For a catalogue of public education materials or copies of our leaflets contact:  Leaflets Department, The Royal College of Psychiatrists, 17 Belgrave Square, London SW1X 8PG. Telephone: 020 7235 2351 x259.  Charity number 228636 

 

This page is maintained by Dr Syed Ahmer, MRCPsych and Mr Muhammad Zaman Khan, MA. Dept of Psychiatry, Aga Khan University, Karachi. If you have any suggestions for this web page, please email us at: webmaster@rcpsych.ac.uk

Login
Make a Donation